معاہدہ (عَقْدٌ)
أصول الفقه
المعنى الاصطلاحي :
دو اشخاص میں سے کسی ایک سے صادر ہونے والے ایجاب کا دوسرے کےقبول کے ساتھ اس طرح مربوط ہونا کہ اس پر کوئی حکم شرعی مرتب ہو۔
الشرح المختصر :
عقد: دو قولوں کے مابین، جن میں سے ایک (قول) کو ایجاب اور دوسرے کو قبول کہتے ہیں، اس طرح سے ربط وتعلق کا ہونا کہ اس پر کوئی حُکمِ شرعی مرتب ہو۔ اور بالفاظِ دیگر: تصرف کے اجزا مثلاً بیع کو ایجاب وقبول کے ساتھ مربوط کرنا۔ اس کی مثال: جیسے بائع کہے: ’’میں نے بیچ دیا‘‘ اور دوسرا فریق (خریدار) کہے: ’’میں نے خرید لیا‘‘، تو اس سے ایک شرعی معنی حاصل ہوگا اور وہ بیع ہے، اور اس پر ایک شرعی حکم مرتَّب ہوگا اور وہ یہ ہے کہ سامان کی ملکیت بیچنے والے سے خریدار کی طرف منتقل ہوجائے گی، اور قیمت خریدار سے بیچنے والے کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ لھٰذا عقد میں دو فریق کا ہونا ضروری ہے جن میں سے ہر ایک کا ارادہ دوسرے فریق کے ارادے کے موافق ہو۔
التعريف اللغوي المختصر :
عقد: جوڑنا اور باندھنا۔ کہا جاتا ہے: ’’عَقَدَ الحَبْلَ، يَعْقِدُهُ، عَقْداً ‘‘ یعنی اس نے رسی کو باندھ دیا۔ اس کی ضد ’حَلّ‘ (کھولنا) ہے۔ اس کا اصل معنی دو سِروں میں سے ایک کو دوسرے سے جوڑنا ہوتا ہے۔ اس کے معانی میں لازم ہونا، توثیق (تصدیق)، عہد وپیمان اور تاکید بھی آتے ہیں۔