قَسامہ (حلف برداری) (قَسامَةٌ)

قَسامہ (حلف برداری) (قَسامَةٌ)


أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


مکرر اٹھائی جانے والی قسمیں جنہیں مقتول کے ورثاء قتل کے اثبات کے لیے اٹھاتے ہیں۔

الشرح المختصر :


’قَسامہ‘ قتل کے جرم کے اثبات اور مجرم کی پہچان کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے ۔اس سے مراد متعدد پچاس قسمیں ہیں جو اس وقت اٹھائی جاتی ہیں جب کوئی معصوم الدم (بے گناہ) شخص کسی جگہ پر مقتول ملے بایں طور کہ اس کے قاتل کا کچھ علم نہ ہو اور ان کے اور قاتل کے مابین ’لوث‘ (شبہ) پایا جاتا ہو۔ یا یہ کہا جائے کہ یہ ایک مخصوص حلف برداری ہے جو کہ قتل کے الزام کے وقت اٹھائی جاتی ہے چاہے اثبات کے لیے ہو یا نفی کے لیے۔ یہ قسمیں مقتول کے ورثاء میں سے بالغ و عاقل اور آزاد مرد حضرات اٹھائیں گے جو ان میں سے موجود لوگوں پر تقسیم کردی جائیں گی؛ تاکہ ملزم پر قتل کو ثابت کیا جاسکے اور اس سے دیت لی جا سکے۔ یا خود ملزم ہی اپنے آپ سے قتل کے الزام کی نفی کرنے کے لئے یہ قسمیں اٹھائے گا۔ 'لوث' سے مراد ایسا قرینہ ہے جو کسی شے کے وقوع پر دلالت کرے تاہم وہ کوئی قطعی دلیل نہ ہو۔

التعريف اللغوي المختصر :


القَسامۃ: لوگوں کی ایک جماعت جو کسی بات پر قسم اٹھائے۔ إقسام کا حقیقی معنی کسی شے پر قسم اٹھانا ہے۔ قسامہ سے مراد وہ قسمیں بھی ہوتی ہیں جو مقتول کے ورثاء اٹھاتے ہیں۔ اس کے یہ معانی بھی آتے ہیں: جنگ بندی کا معاہدہ اور حسن وجمال۔