عقدِ موقوف (عَقْدٌ مَوْقُوفٌ)
أصول الفقه
المعنى الاصطلاحي :
وہ مشروع تصرف جس کے نفاذ کو اس کے ساتھ دوسرے کا حق متعلق ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا ہو۔
الشرح المختصر :
عقدِ موقوف: اپنے اصل اور وصف کے اعتبار سے ایک مشروع اور جائز تصرف ہے، جیسے مثال کے طور پر خرید وفروخت۔ اس کے نفاذ اور اس پر اس کے آثار کے مرتب ہونے میں رکاوٹ یہ ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کا حق متعلق ہے۔ لهذا یہ اسی صاحبِ حق کی اجازت اور اس کے حکم ہی سے اپنے حکم کا فائدہ دے گا اور اس کے لیے نتیجہ خیز ہوگا۔ عقدِ موقوف کی سب سے مشہور مثال ”بَيعُ الفُضُولي“ (یعنی ایک غیر متعلق شخص کی بیع) ہے۔ یہ بیع ملکیت کی شرط مفقود ہونے کی وجہ سے نافذ نھیں ہوتی ہے۔ لیکن یہ عقد مالک کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، اگر مالک اسے نافذ کردے تو یہ بیع صحیح ہوجائے گی، اور اگر وہ اسے رد کر دے تو یہ بیع صحیح نہیں ہوگی۔