مَفْقُود (گم شدہ) (الْمَفْقُودُ)

مَفْقُود (گم شدہ) (الْمَفْقُودُ)


الفقه أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


وہ شخص جو غائب ہو جائے اور اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ہو، نہ اس کی جگہ کا علم ہو اور نہ یہ معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے یا مُردہ ۔

الشرح المختصر :


’مَفْقُود‘: ایسا غائب شخص جس کی کوئی خبر نہ ہو، نہ اس کے زندہ رہنے کا علم ہو اور نہ مرنے کا، اس کی جگہ کے معلوم ہونے یا مجہول ہونے، دونوں کا اعتبار نہیں ہوتا۔ بعض فقہاء نے اس کی چار قسمیں کی ہیں: پہلی قسم: مسلمانوں کے علاقے میں گُم شدہ۔ بعض نے وباء کے وقت گُم شدہ ہونے یا اس کے علاوہ مفقود ہونے کو اسی قسم سے متفرع بتایا ہے۔ دوسری قسم: دشمن کے علاقے میں گُم شدہ۔ تیسری قسم: ایسا شخص جو مسلمانوں اور کفار کے مابین جنگ میں گُم ہوجائے۔ چوتھی قسم: ایسا شخص جو مسلمانوں کی باہمی جنگ میں گُم ہوجائے۔ بعض فقہاء نے اس کی دو قسمیں کی ہیں: پہلی قسم: غائب ہونے کی وجہ سے جس کا علم نہ ہو، جب کہ بظاہر اس کے صحیح سالم ہو نے کا گمان ہو جیسے تجارت کے لئے سفر کرنے والا، یا سیر و تفریح کرنے والا یا طلبِ علم کے لئے سفر کرنے والا وغیرہ۔ دوسری قسم: غائب ہونے کی وجہ سے جس کا علم نہ ہو، جب کہ بظاہر اس کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو جیسے وہ فوجی جو لڑائی میں گُم ہو جائے، غرق شدہ کشتی کا سوار جو غائب ہو جائے، جب کہ اس کے کچھ سوار بچ گئے ہوں، اسی طرح خطرناک صحراء وغیرہ میں گُم ہو جانے والا شخص۔ ’فُقْدَان‘ کا حکم یا تو گُم شدہ کے واپس آنے سے ختم ہوگا، یا اس کے موت کا علم ہو جانے سے یا متعین مدت کے ختم ہونے سے۔

التعريف اللغوي المختصر :


گم شدہ، جس کا علم نہ ہو۔ ’فُقْدَان‘: بمعنیٰ ضائع ہونا اور موجود نہ ہونا۔ ’فَقْد‘ کا اصل معنی ہے کسی چیز کا ختم ہو جانا۔ اس کی ضد وجود اور ثبوت ہے۔ ’فَقْد‘ جب ایک چیز کو طلب کیا جائے اور وہ نہ ملے تو اس معنیٰ میں بھی مستعمَلْ ہے۔ المَفْقُود: جو غائب ہونے کی صورت میں مطلوب ہو۔