مرگِ موت (مَرَضُ الْمَوْتِ)

مرگِ موت (مَرَضُ الْمَوْتِ)


الفقه أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


وہ خطرناک بیماری جو موت سے متصل ہوتی ہے اور اس میں عام طور پر ہلاکت کا غلبہ ہوتا ہے، خواہ موت اسی کے سبب ہوئی ہو، یا بیماری سے الگ کسی دوسرے بیرونی سبب سے ہوئی ہو، جیسے قتل، یا ڈوبنے، یا آگ وغیرہ سے۔

الشرح المختصر :


’مرض‘: جسم کو پیش آنے والی وہ حالت ہوتی ہے جو جسم کو صحت اور اعتدال کی حالت سے نکال دیتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم: ایسی بیماری جو خطرناک نہ ہو، یعنی اس بیماری کی وجہ سے اس کے مرنے کا خوف نہ ہو، چاہے وہ بیماری دائمی ہو جیسے شوگر کی بیماری، یا وہ بیماری عارضی ہو جیسے داڑھ کا درد یا سر درد وغیرہ۔ الاّ یہ کہ اگر دائمی بیماری بڑھ جائے اور زیادہ ہو جائے۔ دوسری قسم: مرگِ موت، جس میں تین شرطیں پائی جائیں: 1- جس میں عام طور پر موت غالب ہو، یا کثرت سے ہو، جیسے کینسر وغیرہ کی بیماری۔ 2- جو مریض کے اندر موت کے خوف کا احساس پیدا کردے۔ 3- مریض اسی بیماری کی حالت میں وفات پا جائے، چاہے موت کا سبب وہی بیماری ہو یا اس بیماری کے علاوہ کوئی اور سبب ہو، جیسے مریض کا قتل ہو جانا، غرق ہونا، جل جانا یا اس کے علاوہ دیگر سبب کا پیش آنا۔ مرض کی نوعیت کی تعیین کے معاملے میں اہل علم کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اہلِ علم سے مراد اطباء (ڈاکٹرز) ہیں۔ کیونکہ وہی اس کے بارے میں معلومات اور تجربہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں دو بالغ قابل بھروسہ مسلمان ڈاکٹروں کی رائےقبول کی جائے گی کیونکہ اس کے ساتھ حقوق اللہ اور حقوق العباد (دونوں) متعلق ہیں۔ کسی بھی شخص کے تصرفات کی دو قسمیں ہیں: 1- پہلی قسم: حالتِ صحت یا غیر مہلک مرض کی حالت کے تصرفات، ۔ جب کہ وہ اس کی عقل کو متاثر نہ کرے ۔ تو آدمی اس حالت میں ’کامل اہلیت‘ یعنی مکمل طور پر (تصرفات کا) اہل (مجاز ) ہوتا ہے۔ 2- دوسری قسم: مہلک مرض کی حالت کے دوران کے تصرفات، تو آدمی اس حالت میں ناقص اہلیت یعنی تصرفات کا جزوی طور پر اہل (مجاز ) ہوتا ہے۔