محرماتِ نکاح (وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے) (مُحَرَّمَاتُ النِّكَاحِ)
الفقه أصول الفقه
المعنى الاصطلاحي :
وہ عورتیں جن سے شادی کرنا حرام ہے، اور اگر نکاح ہو جائے تو وہ درست نہیں ہے۔
الشرح المختصر :
مُحَرَّماتِ نکاح: وہ عورتیں جن سے شادی کرنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ واقع ہوجائے تو اسے باطل سمجھا جاتا ہے۔ ان عورتوں کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم: محرماتِ ابدیہ، یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ جیسے ماں، بیٹی اور سگی بہن وغیرہ۔ اس لیے کہ ان سے نکاح نہ کرنے کا سبب مستقل اور دائمی ہوتا ہے، کبھی ختم نہیں ہوتا (یعنی ان میں ابدی حرمت کے اسباب پائے جاتے ہیں)۔ عورتوں سے نکاح ناجائز ہونے کے تین اسباب ہیں، جودرج ذیل ہیں: 1- رشتہ داری، جیسے ماں کا رشتہ۔ 2- سسرالی رشتہ داری، جیسے ساس۔ 3- رضاعت، جیسے رضاعی بیٹی۔ دوسری قسم: وقتی وعارضی محرمات، یعنی وہ خواتین جن سے نکاح کا حرام ہونا وقتی اور غیر مستقل ہوتا ہے؛ کیوں کہ تحریم کا سبب دائمی نہیں ہوتا اور اس کے ختم ہونے کا امکان ہوتا ہے، جیسے کسی اور کی بیوی، غیر کی معتدّہ یعنی عدت گزارنے والی خاتون اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والی عورت۔