پانی سے حاصل کی جانے والی طہارت (طَهارَةٌ مائِيَّةٌ)

پانی سے حاصل کی جانے والی طہارت (طَهارَةٌ مائِيَّةٌ)


أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


پانی کے ذریعہ ایسی حقیقی یا معنوی ناپاکی کو دور کرنا جس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہ ہو۔

الشرح المختصر :


الطہارۃ المائیّۃ: پانی سے حاصل کی جانے والی طہارت۔ اس کی دو قسمیں ہیں:1- حدث ( معنوی ناپاکی )کو دور کرنے کے لیے کی جانے والی طہارت: یہ طہارت یا تو صغریٰ ہوگی، صغریٰ سے مراد وہ طہارت ہے جو وضو سے حاصل کی جاتی ہے جیسے پیشاب کے بعد حاصل کی جانے والی طہارت۔ یا یہ طہارت کبریٰ ہوگی۔ کبریٰ سے مراد وہ طہارت جو غسل سے حاصل کی جاتی ہے جیسے جنابت کے بعد کی طہارت۔2- خبث (حقیقی ناپاکی) کو دور کرنے والی طہارت: وہ یہ ہے کہ کپڑے، بدن اور جگہ پر موجود ناپاکی کو دھونا۔ یہاں پانی سے مراد ’ماء طہور ‘ہے یعنی وہ پانی جو خود بھی پاک ہواور دوسرے کو بھی پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔